EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

گو اپنے ہزار نام رکھ لوں
پر اپنے سوا میں اور کیا ہوں

جون ایلیا




ہائے وہ اس کا موج خیز بدن
میں تو پیاسا رہا لب جو بھی

جون ایلیا




ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں
آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی

جون ایلیا




حاصل کن ہے یہ جہان خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

جون ایلیا




ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہم
ہر کسی کو سلام کر رہے ہیں

جون ایلیا




ہیں دلیلیں ترے خلاف مگر
سوچتا ہوں تری حمایت میں

جون ایلیا




ہم عجب ہیں کہ اس کی باہوں میں
شکوۂ نارسائی کرتے ہیں

جون ایلیا