حسن کہتا تھا چھیڑنے والے
چھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی
جون ایلیا
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال
جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں
جون ایلیا
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اک عجب حال ہے کہ اب اس کو
یاد کرنا بھی بے وفائی ہے
جون ایلیا
علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں
وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے
جون ایلیا
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤں
اپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے
جون ایلیا
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اتنا خالی تھا اندروں میرا
کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں
جون ایلیا
ٹیگز:
| خدا |
| 2 لائنیں شیری |
جان من تیری بے نقابی نے
آج کتنے نقاب بیچے ہیں
جون ایلیا
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

