EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

حسن کہتا تھا چھیڑنے والے
چھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی

جون ایلیا




اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال
جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں

جون ایلیا




اک عجب حال ہے کہ اب اس کو
یاد کرنا بھی بے وفائی ہے

جون ایلیا




علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں
وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے

جون ایلیا




ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤں
اپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے

جون ایلیا




اتنا خالی تھا اندروں میرا
کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں

جون ایلیا




جان من تیری بے نقابی نے
آج کتنے نقاب بیچے ہیں

جون ایلیا