EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دو جہاں سے گزر گیا پھر بھی
میں رہا خود کو عمر بھر درپیش

جون ایلیا




ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی

جون ایلیا




ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیں
اپنی حالت تباہ کی جائے

جون ایلیا




ایک قتالہ چاہئے ہم کو
ہم یہ اعلان عام کر رہے ہیں

جون ایلیا




فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی
فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں سے

جون ایلیا




گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے
وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے

جون ایلیا




گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے

جون ایلیا