EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جانیے اس سے نبھے گی کس طرح
وہ خدا ہے میں تو بندہ بھی نہیں

جون ایلیا




جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا

جون ایلیا




جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرا
یاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے

جون ایلیا




جمع ہم نے کیا ہے غم دل میں
اس کا اب سود کھائے جائیں گے

جون ایلیا




جونؔ دنیا کی چاکری کر کے
تو نے دل کی وہ نوکری کیا کی

جون ایلیا




جسم میں آگ لگا دوں اس کے
اور پھر خود ہی بجھا دوں اس کو

جون ایلیا




جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

جون ایلیا