EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم ہیں مصروف انتظام مگر
جانے کیا انتظام کر رہے ہیں

جون ایلیا




ہم جو اب آدمی ہیں پہلے کبھی
جام ہوں گے چھلک گئے ہوں گے

جون ایلیا




ہم کہاں اور تم کہاں جاناں
ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں

جون ایلیا




ہم کو ہرگز نہیں خدا منظور
یعنی ہم بے طرح خدا کے ہیں

جون ایلیا




ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو

جون ایلیا




ہم نے کیوں خود پہ اعتبار کیا
سخت بے اعتبار تھے ہم تو

جون ایلیا




ہم یہاں خود آئے ہیں لایا نہیں کوئی ہمیں
اور خدا کا ہم نے اپنے نام پر رکھا ہے نام

جون ایلیا