کچھ چھوٹے چھوٹے دکھ اپنے کچھ دکھ اپنے عزیزوں کے
ان سے ہی جیون بنتا ہے سو جیون بن جائے گا
جمیل الدین عالی
کیا کیا روگ لگے ہیں دل کو کیا کیا ان کے بھید
ہم سب کو سمجھانے والے کون ہمیں سمجھائے
جمیل الدین عالی
نہ ترے سوا کوئی لکھ سکے نہ مرے سوا کوئی پڑھ سکے
یہ حروف بے ورق و سبق ہمیں کیا زبان سکھا گئے
جمیل الدین عالی
نا کوئی اس سے بھاگ سکے اور نا کوئی اس کو پائے
آپ ہی گھاؤ لگائے سمے اور آپ ہی بھرنے آئے
جمیل الدین عالی
نیند کو روکنا مشکل تھا پر جاگ کے کاٹی رات
سوتے میں آ جاتے وہ تو نیچی ہوتی بات
جمیل الدین عالی
پہلے کبھی نہیں گزری تھی جو گزری اس شام
سب کچھ بھول چکے تھے لیکن یاد رہا اک نام
جمیل الدین عالی
پیار کرے اور سسکی بھرے پھر سسکی بھر کر پیار
کیا جانے کب اک اک کر کے بھاگ گئے سب یار
جمیل الدین عالی

