EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اجنبیوں سے دھوکے کھانا پھر بھی سمجھ میں آتا ہے
اس کے لیے کیا کہتے ہو وہ شخص تو دیکھا بھالا تھا

جمیل الدین عالی




بابو گیری کرتے ہو گئے عالؔی کو دو سال
مرجھایا وہ پھول سا چہرہ بھورے پڑ گئے بال

جمیل الدین عالی




بکھیرتے رہو صحرا میں بیج الفت کے
کہ بیج ہی تو ابھر کر شجر بناتے ہیں

جمیل الدین عالی




برقع پوش پٹھانی جس کی لاج میں سو سو روپ
کھل کے نہ دیکھی پھر بھی دیکھی ہم نے چھاؤں میں دھوپ

جمیل الدین عالی




دریا دریا گھومے مانجھی پیٹ کی آگ بجھانے
پیٹ کی آگ میں جلنے والا کس کس کو پہچانے

جمیل الدین عالی




دھیرے دھیرے کمر کی سختی کرسی نے لی چاٹ
چپکے چپکے من کی شکتی افسر نے دی کاٹ

جمیل الدین عالی




دوہے کبت کہہ کہہ کر عالؔی من کی آگ بجھائے
من کی آگ بجھی نہ کسی سے اسے یہ کون بتائے

جمیل الدین عالی