EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ایک عجیب راگ ہے ایک عجیب گفتگو
سات سروں کی آگ ہے آٹھویں سر کی جستجو

جمیل الدین عالی




ایک بدیسی نار کی موہنی صورت ہم کو بھائی
اور وہ پہلی نار تھی بھیا جو نکلی ہرجائی

جمیل الدین عالی




ہر اک بات میں ڈالے ہے ہندو مسلم کی بات
یہ نا جانے الھڑ گوری پریم ہے خود اک ذات

جمیل الدین عالی




اک گہرا سنسان سمندر جس کے لاکھ بہاؤ
تڑپ رہی ہے اس کی اک اک موج پہ جیون ناؤ

جمیل الدین عالی




اس دیوانی دوڑ میں بچ بچ جاتا تھا ہر بار
اک دوہا سو اسے بھی لے جا تو ہی خوش رہ یار

جمیل الدین عالی




جانے کیوں لوگوں کی نظریں تجھ تک پہنچیں ہم نے تو
برسوں بعد غزل کی رو میں اک مضمون نکالا تھا

جمیل الدین عالی




کچے محل کی رانی آئی رات ہمارے پاس
ہونٹ پہ لاکھا گال پہ لالی آنکھیں بہت اداس

جمیل الدین عالی