EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ناز ہر بت کے اٹھا پائے نہ جعفرؔ طاہر
چوم کر چھوڑ دیے ہم نے یہ بھاری پتھر

جعفر طاہر




طاہرؔ خدا کی راہ میں دشواریاں سہی
عشق بتاں میں کون سی آسانیاں رہیں

جعفر طاہر




تجھے بھی دیکھ لیا ہم نے او خدائے اجل
کہ تیرا زور چلا بھی تو اہل غم پہ چلا

جعفر طاہر




اٹھی تھی پہلی بار جدھر چشم آرزو
وہ لوگ پھر ملے نہ وہ بستی نظر پڑی

جعفر طاہر




اللہ رے بے خودی کہ ترے گھر کے آس پاس
ہر در پہ دی صدا ترے در کے خیال میں

جگن ناتھ آزادؔ




بہار آئی ہے اور میری نگاہیں کانپ اٹھیں ہیں
یہی تیور تھے موسم کے جب اجڑا تھا چمن اپنا

جگن ناتھ آزادؔ




بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینا
بتا اے پیر مے خانہ یہ مے خانوں پہ کیا گزری

جگن ناتھ آزادؔ