EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مجھے یہ زندگی نقصان کا سودا نہیں لگتی
میں آنے والی دنیا کو بھی تخمینے میں رکھتا ہوں

عرفانؔ صدیقی




نفرت کے خزانے میں تو کچھ بھی نہیں باقی
تھوڑا گزارے کے لیے پیار بچائیں

عرفانؔ صدیقی




رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ
کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے

عرفانؔ صدیقی




رفاقتوں کو ذرا سوچنے کا موقع دو
کہ اس کے بعد گھنے جنگلوں کا رستہ ہے

عرفانؔ صدیقی




ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر

عرفانؔ صدیقی




روح کو روح سے ملنے نہیں دیتا ہے بدن
خیر یہ بیچ کی دیوار گرا چاہتی ہے

عرفانؔ صدیقی




روپ کی دھوپ کہاں جاتی ہے معلوم نہیں
شام کس طرح اتر آتی ہے رخساروں پر

عرفانؔ صدیقی