EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس نے بھی کئی روز سے خواہش نہیں اوڑھی
میں نے بھی کئی دن سے ارادہ نہیں پہنا

اقبال ساجد




وہ بولتا تھا مگر لب نہیں ہلاتا تھا
اشارہ کرتا تھا جنبش نہ تھی اشارے میں

اقبال ساجد




وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گا
کردار خود ابھر کے کہانی میں آئے گا

اقبال ساجد




یہ ترے اشعار تیری معنوی اولاد ہیں
اپنے بچے بیچنا اقبال ساجدؔ چھوڑ دے

اقبال ساجد




آشوب اضطراب میں کھٹکا جو ہے تو یہ
غم تیرا مل نہ جائے غم روزگار میں

اقبال سہیل




حسن فطرت کی آبرو مجھ سے
آب و گل میں ہے رنگ و بو مجھ سے

اقبال سہیل




جو تصور سے ماورا نہ ہوا
وہ تو بندہ ہوا خدا نہ ہوا

اقبال سہیل