EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

غم حیات نے بخشے ہیں سارے سناٹے
کبھی ہمارے بھی پہلو میں دل دھڑکتا تھا

عرفان احمد




جانے کس شہر میں آباد ہے تو
ہم ہیں برباد یہاں تیرے بعد

عرفان احمد




نشہ تھا زندگی کا شرابوں سے تیز تر
ہم گر پڑے تو موت اٹھا لے گئی ہمیں

عرفان احمد




ترک تعلقات کی بس انتہا نہ پوچھ
اب کے تو میں نے ترک کیا اپنے آپ کو

عرفان احمد




زخم جو تو نے دیے تجھ کو دکھا تو دوں مگر
پاس تیرے بھی نصیحت کے سوا ہے اور کیا

عرفان احمد




گھر سے نکلو تو دعا مانگ کے نکلو ورنہ
لوٹ آنے کا نہیں اپنے بھروسہ کوئی

عرفان پربھنوی




آباد مجھ میں تیرے سوا اور کون ہے؟
تجھ سے بچھڑ رہا ہوں تجھے کھو نہیں رہا

عرفان ستار