EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خاکستر دل میں تو نہ تھا ایک شرر بھی
بیکار اسے برباد کیا موج صبا نے

اقبال سہیل




کچھ ایسا ہے فریب نرگس مستانہ برسوں سے
کہ سب بھولے ہوئے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سے

اقبال سہیل




نہ رہا کوئی تار دامن میں
اب نہیں حاجت رفو مجھ کو

اقبال سہیل




وہ شبنم کا سکوں ہو یا کہ پروانے کی بیتابی
اگر اڑنے کی دھن ہوگی تو ہوں گے بال و پر پیدا

اقبال سہیل




تمام دن مجھے سورج کے ساتھ چلنا تھا
مرے سبب سے مرے ہم سفر پہ دھوپ رہی

اقبال عمر




تمام مسئلے نوعیت سوال کے ہیں
جواب ہوتے ہیں سارے سوال کے اندر

اقتدار جاوید




اکیلے پار اتر کے بہت ہے رنج مجھے
میں اس کا بوجھ اٹھا کر بھی تیر سکتا تھا

عرفان احمد