EN हिंदी
یوں ہی الجھی رہنے دو کیوں آفت سر پر لاتے ہو | شیح شیری
yunhi uljhi rahne do kyun aafat sar par late ho

غزل

یوں ہی الجھی رہنے دو کیوں آفت سر پر لاتے ہو

امداد امام اثرؔ

;

یوں ہی الجھی رہنے دو کیوں آفت سر پر لاتے ہو
دل کی الجھن بڑھتی ہے جب زلفوں کو سلجھاتے ہو

چھپ چھپ کر تم رات کو صاحب غیروں کے گھر جاتے ہو
کیسی ہے یہ بات کہو تو کیوں کر منہ دکھلاتے ہو

سنتے ہو کب بات کسی کی اپنی ہٹ پر رہتے ہو
حضرت دل تم اپنے کئے پر آخر کو پچھتاتے ہو

مدت پر تو آئے ہو ہم دیکھ لیں تم کو جی بھر کے
آئے ہو تو ٹھہرو صاحب روز یہاں کیا آتے ہو

کیسا آنا کیسا جانا میرے گھر کیا آؤ گے
غیروں کے گھر جانے سے تم فرصت کس دن پاتے ہو

آنکھیں جھپکی جاتی ہیں متوالی کی سی صورت ہے
جاگے کس کی صحبت میں جو نیند کے اتنے ماتے ہو

دل سے اثرؔ کیا کہتے ہو ہے جان کا سودا عشق بتاں
تم بھی تو دیوانے ہو دیوانے کو سمجھاتے ہو