تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی
قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا
ابراہیم اشکؔ
تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے
ابراہیم اشکؔ
یہ اور بات ہے کہ برہنہ تھی زندگی
موجود پھر بھی میرے بدن پر لباس تھا
ابراہیم اشکؔ
زندگی اپنی مسلسل چاہتوں کا اک سفر
اس سفر میں بارہا مل کر بچھڑ جاتا ہے وہ
ابراہیم اشکؔ
زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے
اتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہے
ابراہیم اشکؔ
اپنی غربت کی کہانی ہم سنائیں کس طرح
رات پھر بچہ ہمارا روتے روتے سو گیا
عبرت مچھلی شہری
جب آ جاتی ہے دنیا گھوم پھر کر اپنے مرکز پر
تو واپس لوٹ کر گزرے زمانے کیوں نہیں آتے
عبرت مچھلی شہری

