EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی
قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا

ابراہیم اشکؔ




تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

ابراہیم اشکؔ




یہ اور بات ہے کہ برہنہ تھی زندگی
موجود پھر بھی میرے بدن پر لباس تھا

ابراہیم اشکؔ




زندگی اپنی مسلسل چاہتوں کا اک سفر
اس سفر میں بارہا مل کر بچھڑ جاتا ہے وہ

ابراہیم اشکؔ




زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے
اتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہے

ابراہیم اشکؔ




اپنی غربت کی کہانی ہم سنائیں کس طرح
رات پھر بچہ ہمارا روتے روتے سو گیا

عبرت مچھلی شہری




جب آ جاتی ہے دنیا گھوم پھر کر اپنے مرکز پر
تو واپس لوٹ کر گزرے زمانے کیوں نہیں آتے

عبرت مچھلی شہری