من کے اندر پی بسے پی کے اندر پریت
خود میں اتنا ڈوب جا مل جائے گا میت
ابراہیم اشکؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو
جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو
ابراہیم اشکؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے
ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے
ابراہیم اشکؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
نام کو بھی نہ کسی آنکھ سے آنسو نکلا
شمع محفل میں جلاتی رہی پروانے کو
ابراہیم اشکؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
نہیں ہے تم میں سلیقہ جو گھر بنانے کا
تو اشکؔ جاؤ پرندوں کے آشیاں دیکھو
ابراہیم اشکؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
پتھر میں بھی آگ ہے چھیڑو تو جل جائے
جو اس آگ میں تپ گیا وہ ہیرا کہلائے
ابراہیم اشکؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
پیاسی دھرتی دیکھ کے بادل اڑ اڑ جائے
یہ دنیا کی ریت ہے ترسے کو ترسائے
ابراہیم اشکؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

