EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

من کے اندر پی بسے پی کے اندر پریت
خود میں اتنا ڈوب جا مل جائے گا میت

ابراہیم اشکؔ




مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو
جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو

ابراہیم اشکؔ




نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے
ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے

ابراہیم اشکؔ




نام کو بھی نہ کسی آنکھ سے آنسو نکلا
شمع محفل میں جلاتی رہی پروانے کو

ابراہیم اشکؔ




نہیں ہے تم میں سلیقہ جو گھر بنانے کا
تو اشکؔ جاؤ پرندوں کے آشیاں دیکھو

ابراہیم اشکؔ




پتھر میں بھی آگ ہے چھیڑو تو جل جائے
جو اس آگ میں تپ گیا وہ ہیرا کہلائے

ابراہیم اشکؔ




پیاسی دھرتی دیکھ کے بادل اڑ اڑ جائے
یہ دنیا کی ریت ہے ترسے کو ترسائے

ابراہیم اشکؔ