EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مرا خط پڑھ لیا اس نے مگر یہ تو بتا قاصد
نظر آئی جبیں پر بوند بھی کوئی پسینے کی

ہیرا لال فلک دہلوی




نظروں میں حسن دل میں تمہارا خیال ہے
اتنے قریب ہو کہ تصور محال ہے

ہیرا لال فلک دہلوی




نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی
گھڑ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی

ہیرا لال فلک دہلوی




پہنچو گر اک چاند پر سو اور آتے ہیں نظر
آسماں جانے ہے کتنی دور تک پھیلا ہوا

ہیرا لال فلک دہلوی




پرتو حسن ہوں اس واسطے محدود ہوں میں
حسن ہو جاؤں تو دنیا میں سما بھی نہ سکوں

ہیرا لال فلک دہلوی




روشنی تیز کرو چاند ستارو اپنی
مجھ کو منزل پہ پہنچنا ہے سحر ہونے تک

ہیرا لال فلک دہلوی




تن کو مٹی نفس کو ہوا لے گئی
موت کو کیا ملا موت کیا لے گئی

ہیرا لال فلک دہلوی