یک بہ یک ترک نہ کرنا تھا محبت مجھ سے
خیر جس طرح سے آتا تھا وہ آتا جاتا
حقیر
اگر تیری خوشی ہے تیرے بندوں کی مسرت میں
تو اے میرے خدا تیری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا
ہری چند اختر
بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اخترؔ اس کی رحمت پر
اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا
ہری چند اختر
ہاں وہ دن یاد ہیں جب ہم بھی کہا کرتے تھے
عشق کیا چیز ہے اس عشق میں کیا ہوتا ہے
ہری چند اختر
جمع ہیں سارے مسافر نا خدائے دل کے پاس
کشتیٔ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاس
ہری چند اختر
جنہیں حاصل ہے تیرا قرب خوش قسمت سہی لیکن
تیری حسرت لیے مر جانے والے اور ہوتے ہیں
ہری چند اختر
جو ٹھوکر ہی نہیں کھاتے وہ سب کچھ ہیں مگر واعظ
وہ جن کو دست رحمت خود سنبھالے اور ہوتے ہیں
ہری چند اختر

