EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یک بہ یک ترک نہ کرنا تھا محبت مجھ سے
خیر جس طرح سے آتا تھا وہ آتا جاتا

حقیر




اگر تیری خوشی ہے تیرے بندوں کی مسرت میں
تو اے میرے خدا تیری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا

ہری چند اختر




بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اخترؔ اس کی رحمت پر
اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا

ہری چند اختر




ہاں وہ دن یاد ہیں جب ہم بھی کہا کرتے تھے
عشق کیا چیز ہے اس عشق میں کیا ہوتا ہے

ہری چند اختر




جمع ہیں سارے مسافر نا خدائے دل کے پاس
کشتیٔ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاس

ہری چند اختر




جنہیں حاصل ہے تیرا قرب خوش قسمت سہی لیکن
تیری حسرت لیے مر جانے والے اور ہوتے ہیں

ہری چند اختر




جو ٹھوکر ہی نہیں کھاتے وہ سب کچھ ہیں مگر واعظ
وہ جن کو دست رحمت خود سنبھالے اور ہوتے ہیں

ہری چند اختر