EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

غم زندگانی کے سب سلسلے
بالآخر غم عشق سے جا ملے

حفیظ ہوشیارپوری




ہم کو منزل نے بھی گمراہ کیا
راستے نکلے کئی منزل سے

حفیظ ہوشیارپوری




جب کبھی ہم نے کیا عشق پشیمان ہوئے
زندگی ہے تو ابھی اور پشیماں ہوں گے

حفیظ ہوشیارپوری




کہیں یہ ترک محبت کی ابتدا تو نہیں
وہ مجھ کو یاد کبھی اس قدر نہیں آئے

حفیظ ہوشیارپوری




نظر سے حد نظر تک تمام تاریکی
یہ اہتمام ہے اک وعدۂ‌ سحر کے لیے

حفیظ ہوشیارپوری




تمام عمر کیا ہم نے انتظار بہار
بہار آئی تو شرمندہ ہیں بہار سے ہم

حفیظ ہوشیارپوری




تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا
اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا

حفیظ ہوشیارپوری