EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میر کے بعد غالب و اقبال
اک صدا، اک صدی میں گزری ہے

گلزار دہلوی




عمر جو بے خودی میں گزری ہے
بس وہی آگہی میں گزری ہے

گلزار دہلوی




صد سالہ دور چرخ تھا ساغر کا ایک دور
نکلے جو میکدے سے تو دنیا بدل گئی

گستاخ رامپوری




دھرتی اور امبر پر دونوں کیا رعنائی بانٹ رہے تھے
پھول کھلا تھا تنہا تنہا چاند اگا تھا تنہا تنہا

گیان چند




فکر کی دنیا میں کولمبس بنا پھرتا ہوں میں
علم کی پہنائی کا کتنا بڑا فیضان ہے

گیان چند




چاہتے بھی ہیں چاہتے بھی نہیں
دوستی کی نئی مثال ہے یہ

حباب ترمذی




عافیت کی امید کیا کہ ابھی
دل امیدوار باقی ہے

حبیب احمد صدیقی