EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چلوں تو مصلحت یہ کہہ کے پاؤں تھام لیتی ہے
وہاں جانا بھی کیا حاصل جہاں سے کچھ نہیں ہوتا

گلزار بخاری




جانے والوں کی کمی پوری کبھی ہوتی نہیں
آنے والے آئیں گے پھر بھی خلا رہ جائے گا

گلزار بخاری




کون پس منظر میں اجڑے پیکروں کو دیکھتا
شہر کی نظریں لباس خوش نما میں کھو گئیں

گلزار بخاری




رنگ و بو کا شوق آشوب ہوا میں لے گیا
تتلیاں گھر سے نکل کر ابتلا میں کھو گئیں

گلزار بخاری




ضابطے اور ہی مصداق پہ رکھے ہوئے ہیں
آج کل صدق و صفا طاق پہ رکھے ہوئے ہیں

گلزار بخاری




ہائے کیا دور زندگی گزرا
واقعے ہو گئے کہانی سے

گلزار دہلوی




جہاں انسانیت وحشت کے ہاتھوں ذبح ہوتی ہو
جہاں تذلیل ہے جینا وہاں بہتر ہے مر جانا

گلزار دہلوی