شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے
گلزار
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں
سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں
گلزار
ٹیگز:
| خواجہ |
| 2 لائنیں شیری |
اسی کا ایماں بدل گیا ہے
کبھی جو میرا خدا رہا تھا
گلزار
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر
عادت اس کی بھی آدمی سی ہے
گلزار
ٹیگز:
| وقف |
| 2 لائنیں شیری |
وہ ایک دن ایک اجنبی کو
مری کہانی سنا رہا تھا
گلزار
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہ عمر کم کر رہا تھا میری
میں سال اپنے بڑھا رہا تھا
گلزار
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں
سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی
گلزار

