EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے

گلزار




تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں
سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں

گلزار




اسی کا ایماں بدل گیا ہے
کبھی جو میرا خدا رہا تھا

گلزار




وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر
عادت اس کی بھی آدمی سی ہے

گلزار




وہ ایک دن ایک اجنبی کو
مری کہانی سنا رہا تھا

گلزار




وہ عمر کم کر رہا تھا میری
میں سال اپنے بڑھا رہا تھا

گلزار




یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں
سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی

گلزار