EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آپ شرمندہ جفاؤں پہ نہ ہوں
جن پہ گزری تھی وہی بھول گئے

حبیب احمد صدیقی




آشنا جب تک نہ تھا اس کی نگاہ لطف سے
واردات قلب کو حسن بیاں سمجھا تھا میں

حبیب احمد صدیقی




اب بہت دور نہیں منزل دوست
کعبے سے چند قدم اور سہی

حبیب احمد صدیقی




اب تو جو شے ہے مری نظروں میں ہے ناپائیدار
یاد آیا میں کہ غم کو جاوداں سمجھا تھا میں

حبیب احمد صدیقی




اپنے دامن میں ایک تار نہیں
اور ساری بہار باقی ہے

حبیب احمد صدیقی




بصد ادائے دلبری ہے التجائے مے کشی
یہ ہوش اب کسے کہ مے حرام یا حلال ہے

حبیب احمد صدیقی




بتائے کون کسی کو نشان منزل زیست
ابھی تو حجت باہم ہے رہ گزر کے لئے

حبیب احمد صدیقی