EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہزاروں تمناؤں کے خوں سے ہم نے
خریدی ہے اک تہمت پارسائی

حبیب احمد صدیقی




اک فصل گل کو لے کے تہی دست کیا کریں
آئی ہے فصل گل تو گریباں بھی چاہئے

حبیب احمد صدیقی




اظہار غم کیا تھا بہ امید التفات
کیا پوچھتے ہو کتنی ندامت ہے آج تک

حبیب احمد صدیقی




جب کوئی فتنۂ ایام نہیں ہوتا ہے
زندگی کا بڑی مشکل سے یقیں ہوتا ہے

حبیب احمد صدیقی




جس کے واسطے برسوں سعئ رائیگاں کی ہے
اب اسے بھلانے کی سعئ رائیگاں کر لیں

حبیب احمد صدیقی




جو کام کرنے ہیں اس میں نہ چاہئے تاخیر
کبھی پیام اجل ناگہاں بھی آتا ہے

حبیب احمد صدیقی




کبھی بے کلی کبھی بے دلی ہے عجیب عشق کی زندگی
کبھی غنچہ پہ جاں فدا کبھی گلستاں سے غرض نہیں

حبیب احمد صدیقی