ہزاروں تمناؤں کے خوں سے ہم نے
خریدی ہے اک تہمت پارسائی
حبیب احمد صدیقی
اک فصل گل کو لے کے تہی دست کیا کریں
آئی ہے فصل گل تو گریباں بھی چاہئے
حبیب احمد صدیقی
اظہار غم کیا تھا بہ امید التفات
کیا پوچھتے ہو کتنی ندامت ہے آج تک
حبیب احمد صدیقی
جب کوئی فتنۂ ایام نہیں ہوتا ہے
زندگی کا بڑی مشکل سے یقیں ہوتا ہے
حبیب احمد صدیقی
جس کے واسطے برسوں سعئ رائیگاں کی ہے
اب اسے بھلانے کی سعئ رائیگاں کر لیں
حبیب احمد صدیقی
جو کام کرنے ہیں اس میں نہ چاہئے تاخیر
کبھی پیام اجل ناگہاں بھی آتا ہے
حبیب احمد صدیقی
کبھی بے کلی کبھی بے دلی ہے عجیب عشق کی زندگی
کبھی غنچہ پہ جاں فدا کبھی گلستاں سے غرض نہیں
حبیب احمد صدیقی

