EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ دل بھی دوست زمیں کی طرح
ہو جاتا ہے ڈانوا ڈول کبھی

گلزار




یہ روٹیاں ہیں یہ سکے ہیں اور دائرے ہیں
یہ ایک دوجے کو دن بھر پکڑتے رہتے ہیں

گلزار




یہ شکر ہے کہ مرے پاس تیرا غم تو رہا
وگرنہ زندگی بھر کو رلا دیا ہوتا

گلزار




یوں بھی اک بار تو ہوتا کہ سمندر بہتا
کوئی احساس تو دریا کی انا کا ہوتا

گلزار




زخم کہتے ہیں دل کا گہنہ ہے
درد دل کا لباس ہوتا ہے

گلزار




زندگی پر بھی کوئی زور نہیں
دل نے ہر چیز پرائی دی ہے

گلزار




زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

گلزار