EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کوئی خاموش زخم لگتی ہے
زندگی ایک نظم لگتی ہے

گلزار




میں چپ کراتا ہوں ہر شب امڈتی بارش کو
مگر یہ روز گئی بات چھیڑ دیتی ہے

گلزار




پھر وہیں لوٹ کے جانا ہوگا
یار نے کیسی رہائی دی ہے

گلزار




راکھ کو بھی کرید کر دیکھو
ابھی جلتا ہو کوئی پل شاید

گلزار




رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے
دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں

گلزار




رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے
قرار دے کے ترے در سے بے قرار چلے

گلزار




سہما سہما ڈرا سا رہتا ہے
جانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہے

گلزار