EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اپنے ماضی کی جستجو میں بہار
پیلے پتے تلاش کرتی ہے

گلزار




اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں
عمر گزری ہے اس قدر تنہا

گلزار




بھرے ہیں رات کے ریزے کچھ ایسے آنکھوں میں
اجالا ہو تو ہم آنکھیں جھپکتے رہتے ہیں

گلزار




چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں
دل کو پگھلائیں تو ہو سکتا ہے سانسیں نکلیں

گلزار




چولھے نہیں جلائے کہ بستی ہی جل گئی
کچھ روز ہو گئے ہیں اب اٹھتا نہیں دھواں

گلزار




دیر سے گونجتے ہیں سناٹے
جیسے ہم کو پکارتا ہے کوئی

گلزار




دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے
کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں

گلزار