EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی
جیسے احساں اتارتا ہے کوئی

گلزار




ایک ہی خواب نے ساری رات جگایا ہے
میں نے ہر کروٹ سونے کی کوشش کی

گلزار




ایک سناٹا دبے پاؤں گیا ہو جیسے
دل سے اک خوف سا گزرا ہے بچھڑ جانے کا

گلزار




گو برستی نہیں سدا آنکھیں
ابر تو بارہ ماس ہوتا ہے

گلزار




ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے

گلزار




ہم نے اکثر تمہاری راہوں میں
رک کر اپنا ہی انتظار کیا

گلزار




جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
جانے کون آس پاس ہوتا ہے

گلزار