EN हिंदी
رکھتا نہیں ہے دشت سروکار آب سے | شیح شیری
rakhta nahin hai dasht sarokar aab se

غزل

رکھتا نہیں ہے دشت سروکار آب سے

غلام مرتضی راہی

;

رکھتا نہیں ہے دشت سروکار آب سے
بہلائے جاتے ہیں یہاں پیاسے سراب سے

دن میں بھی گھر اجالے سے محروم ہے تو ہے
کرنوں کا کیا سوال کروں آفتاب سے

بالکل درست ہوتے ہوئے فیل ہو گیا
میں نے جواب نقل کیا تھا کتاب سے

وہ سال ہو کہ ماہ ہو دن ہو کہ ہو گھڑی
باقی نہیں بچوں گا کسی کے حساب سے

ہر شے پر اک اچٹتی نظر ڈالتا چلوں
بیکار ہوگا میرا اترنا رکاب سے

ترمیم حذف اور اضافے کے ساتھ ساتھ
یہ کلیات پر ہے مرے انتخاب سے