EN हिंदी
پیڑ اگر اونچا ملتا ہے | شیح شیری
peD agar uncha milta hai

غزل

پیڑ اگر اونچا ملتا ہے

غلام مرتضی راہی

;

پیڑ اگر اونچا ملتا ہے
مشکل سے سایہ ملتا ہے

محنت سے پیسہ ملتا ہے
جیسے کو تیسا ملتا ہے

دریا کے رستے ساگر سے
قطرہ قطرہ جا ملتا ہے

صحرا جنگل ساگر پربت
ان سے ہی رستہ ملتا ہے

بیٹھے بیٹھے گھومنے والا
دنیا کا نقشہ ملتا ہے