پیڑ اگر اونچا ملتا ہے
مشکل سے سایہ ملتا ہے
محنت سے پیسہ ملتا ہے
جیسے کو تیسا ملتا ہے
دریا کے رستے ساگر سے
قطرہ قطرہ جا ملتا ہے
صحرا جنگل ساگر پربت
ان سے ہی رستہ ملتا ہے
بیٹھے بیٹھے گھومنے والا
دنیا کا نقشہ ملتا ہے
غزل
پیڑ اگر اونچا ملتا ہے
غلام مرتضی راہی

