اے سوز عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا
میری ہر ایک سانس مناجات ہو گئی
فراق گورکھپوری
اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا
تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں
فراق گورکھپوری
بد گماں ہو کے مل اے دوست جو ملنا ہے تجھے
یہ جھجھکتے ہوئے ملنا کوئی ملنا بھی نہیں
فراق گورکھپوری
بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی
سو بات بن گئی ہے فراقؔ ایک بات کی
فراق گورکھپوری
بہت دنوں میں محبت کو یہ ہوا معلوم
جو تیرے ہجر میں گزری وہ رات رات ہوئی
فراق گورکھپوری
بہت حسین ہے دوشیزگیٔ حسن مگر
اب آ گئے ہو تو آؤ تمہیں خراب کریں
فراق گورکھپوری
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
فراق گورکھپوری

