کعبہ بھی گھر اپنا ہے صنم خانہ بھی اپنا
ہر حسن کا جلوہ مرا ایمان نظر ہے
فگار اناوی
کعبے میں ہو یا بت خانے میں ہونے کو تو سر خم ہوتا ہے
ہوتا ہے جہاں تو جلوہ نما کچھ اور ہی عالم ہوتا ہے
فگار اناوی
کس کام کا ایسا دل جس میں رنجش ہے غبار ہے کینہ ہے
ہم کو ہے ضرورت اس دل کی سب جس کو کہیں آئینہ ہے
فگار اناوی
کسی سے شکوۂ محرومئی نیاز نہ کر
یہ دیکھ لے کہ تری آرزو تو خام نہیں
فگار اناوی
کیا ملا عرض مدعا سے فگارؔ
بات کہنے سے اور بات گئی
فگار اناوی
مایوس دلوں کو اب چھیڑو بھی تو کیا حاصل
ٹوٹے ہوئے پیمانے فریاد نہیں کرتے
فگار اناوی
محفل کون و مکاں تیری ہی بزم ناز ہے
ہم کہاں جائیں گے اس محفل سے اٹھ جانے کے بعد
فگار اناوی

