EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کعبہ بھی گھر اپنا ہے صنم خانہ بھی اپنا
ہر حسن کا جلوہ مرا ایمان نظر ہے

فگار اناوی




کعبے میں ہو یا بت خانے میں ہونے کو تو سر خم ہوتا ہے
ہوتا ہے جہاں تو جلوہ نما کچھ اور ہی عالم ہوتا ہے

فگار اناوی




کس کام کا ایسا دل جس میں رنجش ہے غبار ہے کینہ ہے
ہم کو ہے ضرورت اس دل کی سب جس کو کہیں آئینہ ہے

فگار اناوی




کسی سے شکوۂ محرومئی نیاز نہ کر
یہ دیکھ لے کہ تری آرزو تو خام نہیں

فگار اناوی




کیا ملا عرض مدعا سے فگارؔ
بات کہنے سے اور بات گئی

فگار اناوی




مایوس دلوں کو اب چھیڑو بھی تو کیا حاصل
ٹوٹے ہوئے پیمانے فریاد نہیں کرتے

فگار اناوی




محفل کون و مکاں تیری ہی بزم ناز ہے
ہم کہاں جائیں گے اس محفل سے اٹھ جانے کے بعد

فگار اناوی