EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شکست دل کی ہر آواز حشر آثار ہوتی ہے
مگر سوئی ہوئی دنیا کہاں بیدار ہوتی ہے

فگار اناوی




ترے غم کے سامنے کچھ غم دو جہاں نہیں ہے
ہے جہاں ترا تصور وہاں این و آں نہیں ہے

فگار اناوی




ان پہ قربان ہر خوشی کر دی
زندگی نذر زندگی کر دی

فگار اناوی




یقین وعدۂ فردا ہمیں باور نہیں آتا
زباں سے لاکھ کہئے آپ کے تیور نہیں کہتے

فگار اناوی




آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے
اک شرح حیات ہو گئی ہے

فراق گورکھپوری




آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی ہم عصرو
جب بھی ان کو دھیان آئے گا تم نے فراقؔ کو دیکھا ہے

فراق گورکھپوری




اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی
یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں

فراق گورکھپوری