EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میری جبین شوق نے سجدے جہاں کئے
وہ آستاں بنا جو کبھی آستاں نہ تھا

فگار اناوی




پرتو حسن سے ذرے بھی بنے آئینے
کتنے جلوے کئے ارزاں تری رعنائی نے

فگار اناوی




پھولوں کو گلستاں میں کب راس بہار آئی
کانٹوں کو ملا جب سے اعجاز مسیحائی

فگار اناوی




قدم اپنے حریم ناز میں اس شوق سے رکھنا
کہ جو دیکھے مرے دل کو تمہارا آستاں سمجھے

فگار اناوی




قدم قدم پہ دونوں جرم عشق میں شریک ہیں
نظر کو بے خطا کہوں کہ دل کو بے خطا کہوں

فگار اناوی




ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی
رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں

فگار اناوی




سر محفل ہمارے دل کو لوٹا چشم ساقی نے
ادھر تقدیر گردش میں ادھر گردش میں جام آیا

فگار اناوی