عجیب کشمکش ہے کیسے حرف مدعا کہوں
وہ پوچھتے ہیں حال دل میں سوچتا ہوں کیا کہوں
فگار اناوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بقدر ذوق میرے اشک غم کی ترجمانی ہے
کوئی کہتا ہے موتی ہے کوئی کہتا ہے پانی ہے
فگار اناوی
چھپ گیا دن قدم بڑھا راہی
دور منزل ہے مفت رات نہ کر
فگار اناوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دیوانے کو مجاز و حقیقت سے کیا غرض
دیر و حرم ملے نہ ملے تیرا در ملے
فگار اناوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل چوٹ سہے اور اف نہ کرے یہ ضبط کی منزل ہے لیکن
ساغر ٹوٹے آواز نہ ہو ایسا تو بہت کم ہوتا ہے
فگار اناوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل ہے مرا رنگینیٔ آغاز پہ مائل
نظروں میں ابھی جام ہے انجام نہیں ہے
فگار اناوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل کی بنیاد پہ تعمیر کر ایوان حیات
قصر شاہی تو ذرا دیر میں ڈھ جاتے ہیں
فگار اناوی
ٹیگز:
| دل |
| 2 لائنیں شیری |

