EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

عجیب کشمکش ہے کیسے حرف مدعا کہوں
وہ پوچھتے ہیں حال دل میں سوچتا ہوں کیا کہوں

فگار اناوی




بقدر ذوق میرے اشک غم کی ترجمانی ہے
کوئی کہتا ہے موتی ہے کوئی کہتا ہے پانی ہے

فگار اناوی




چھپ گیا دن قدم بڑھا راہی
دور منزل ہے مفت رات نہ کر

فگار اناوی




دیوانے کو مجاز و حقیقت سے کیا غرض
دیر و حرم ملے نہ ملے تیرا در ملے

فگار اناوی




دل چوٹ سہے اور اف نہ کرے یہ ضبط کی منزل ہے لیکن
ساغر ٹوٹے آواز نہ ہو ایسا تو بہت کم ہوتا ہے

فگار اناوی




دل ہے مرا رنگینیٔ آغاز پہ مائل
نظروں میں ابھی جام ہے انجام نہیں ہے

فگار اناوی




دل کی بنیاد پہ تعمیر کر ایوان حیات
قصر شاہی تو ذرا دیر میں ڈھ جاتے ہیں

فگار اناوی