EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دل مرا شاکیٔ جفا نہ ہوا
یہ وفادار بے وفا نہ ہوا

فگار اناوی




ایک خواب و خیال ہے دنیا
اعتبار نظر کو کیا کہئے

فگار اناوی




فضا کا تنگ ہونا فطرت آزاد سے پوچھو
پر پرواز ہی کیا جو قفس کو آشیاں سمجھے

فگار اناوی




غم و الم سے جو تعبیر کی خوشی میں نے
بہت قریب سے دیکھی ہے زندگی میں نے

فگار اناوی




ہیں یہ جذبات مرے درد بھرے دل کے فگار
لفظ بن بن کے جو اشعار تک آ پہنچے ہیں

فگار اناوی




حسرت دل نامکمل ہے کتاب زندگی
جوڑ دے ماضی کے سب اوراق مستقبل کے ساتھ

فگار اناوی




اک تیرا آسرا ہے فقط اے خیال دوست
سب بجھ گئے چراغ شب انتظار میں

فگار اناوی