EN हिंदी
تاباں عبد الحی شیاری | شیح شیری

تاباں عبد الحی شیر

67 شیر

پھر مہرباں ہوا ہے تاباںؔ مرا ستم گر
باتیں تری کسی نے شاید سنائیاں ہیں

تاباں عبد الحی




مجھے آتا ہے رونا ایسی تنہائی پہ اے تاباںؔ
نہ یار اپنا نہ دل اپنا نہ تن اپنا نہ جاں اپنا

تاباں عبد الحی




نہ جا واعظ کی باتوں پر ہمیشہ مے کو پی تاباںؔ
عبث ڈرتا ہے تو دوزخ سے اک شرعی درکا ہے

تاباں عبد الحی




نہ تھے عاشق کسی بیداد پر ہم جب تلک تاباںؔ
ہمارے دل کے تئیں کچھ درد و غم تب تک نہ تھا ہرگز

تاباں عبد الحی




نعمت الوان بھی خوان فلک کی دیکھ لی
ماہ نان خام ہے اور مہر نان سوختہ

تاباں عبد الحی




رند واعظ سے کیوں کہ سربر ہو
اس کی چھو، کی کتاب اور ہی ہے

تاباں عبد الحی




سفر دنیا سے کرنا کیا ہے تاباںؔ
عدم ہستی سے راہ یک نفس ہے

تاباں عبد الحی




مجھ سے بیمار ہے مرا ظالم
یہ ستم کس طرح سہوں تاباںؔ

تاباں عبد الحی




قسمت میں کیا ہے دیکھیں جیتے بچیں کہ مر جائیں
قاتل سے اب تو ہم نے آنکھیں لڑائیاں ہیں

تاباں عبد الحی