EN हिंदी
سراج اورنگ آبادی شیاری | شیح شیری

سراج اورنگ آبادی شیر

101 شیر

نہیں بخشی ہے کیفیت نصیحت خشک زاہد کی
جلا دیو آتش صہبا سیں اس کڑبی کے پولے کوں

سراج اورنگ آبادی




مجھ کوں ہر آن ترے درد سیں بہبودی ہے
عشق بازی میں رخ زرد زر سودی ہے

سراج اورنگ آبادی




مجھ رنگ زرد اوپر غصے سیں لال مت ہو
اے سبز شال والے اودے رومال والے

سراج اورنگ آبادی




مشتاق ہوں تجھ لب کی فصاحت کا ولیکن
رانجھاؔ کے نصیبوں میں کہاں ہیرؔ کی آواز

سراج اورنگ آبادی




مستعد ہوں ترے زلفوں کی سیاہی لے کر
صفحۂ نامۂ اعمال کوں کالا کرنے

سراج اورنگ آبادی




موافقت کرے کیوں میکشوں ستی زاہد
ادھر شراب ادھر مسجد و مصلیٰ ہے

سراج اورنگ آبادی




نہ ملے جب تلک وصال اس کا
تب تلک فوت ہے مرا مطلب

سراج اورنگ آبادی




نظر آتا نہیں مجھ کوں سبب کیا
مرا نازک بدن ہیہات ہیہات

سراج اورنگ آبادی




نیند سیں کھل گئیں مری آنکھیں سو دیکھا یار کوں
یا اندھارا اس قدر تھا یا اجالا ہو گیا

سراج اورنگ آبادی