مستعد ہوں ترے زلفوں کی سیاہی لے کر
صفحۂ نامۂ اعمال کوں کالا کرنے
سراج اورنگ آبادی
مشتاق ہوں تجھ لب کی فصاحت کا ولیکن
رانجھاؔ کے نصیبوں میں کہاں ہیرؔ کی آواز
سراج اورنگ آبادی
مجھ رنگ زرد اوپر غصے سیں لال مت ہو
اے سبز شال والے اودے رومال والے
سراج اورنگ آبادی
مجھ کوں ہر آن ترے درد سیں بہبودی ہے
عشق بازی میں رخ زرد زر سودی ہے
سراج اورنگ آبادی
میں ہوں تو دوانہ پہ کسی زلف کا نہیں ہوں
واللہ کہ رکھتا نہیں یک تار کسی کا
سراج اورنگ آبادی
مکتب عشق کا معلم ہوں
کیوں نہ ہوئے درس یار کی تکرار
سراج اورنگ آبادی
مکتب میں مرے جنوں کے مجنوں
نادان ہے طفل ابجدی ہے
سراج اورنگ آبادی
میں کہا کیا عرق ہے تجھ رخ پر
مسکرا کر کہا کہ فتنہ ہے
سراج اورنگ آبادی
مرہم ترے وصال کا لازم ہے اے صنم
دل میں لگی ہے ہجر کی برچھی کی ہول آج
سراج اورنگ آبادی

