مجھے کیا دیکھ کر تو تک رہا ہے
ترے ہاتھوں کلیجہ پک رہا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
موسم گل کا مگر قافلہ جاتا ہے کہ آج
سارے غنچوں سے جو آواز جرس آتی ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
مستوں کا دل ہے شیشہ اور سنگ دل ہے ساقی
اچرج ہے جو نہ ٹوٹے پتھر سے آبگینہ
شیخ ظہور الدین حاتم
مسجد میں سر پٹکتا ہے تو جس کے واسطے
سو تو یہاں ہے دیکھ ادھر آ خدا شناس
شیخ ظہور الدین حاتم
مشرب میں تو درست خراباتیوں کے ہے
مذہب میں زاہدوں کے نہیں گر روا شراب
شیخ ظہور الدین حاتم
مجلس میں رات گریۂ مستاں تھا تجھ بغیر
ساغر بھرا شراب کا چشم پر آب تھا
شیخ ظہور الدین حاتم
میں اس کی چشم سے ایسا گرا ہوں
مرے رونے پہ ہنستا ہے مرا دل
شیخ ظہور الدین حاتم
میں پیر ہو گیا ہوں اور اب تک جواں ہے درد
میرے مرید ہو جو تمہیں دوستاں ہے درد
شیخ ظہور الدین حاتم
میں کفر و دیں سے گزر کر ہوا ہوں لا مذہب
خدا پرست سے مطلب نہ بت پرست سے کام
شیخ ظہور الدین حاتم

