مدت ہوئی پلک سے پلک آشنا نہیں
کیا اس سے اب زیادہ کرے انتظار چشم
شیخ ظہور الدین حاتم
معتکف ہو شیخ اپنے دل میں مسجد سے نکل
صاحب دل کی بغل میں دل عبادت خانہ ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
مری باتوں سے اب آزردہ نہ ہونا ساقی
اس گھڑی عقل مری مجھ سے جدا پھرتی ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
مرا دل بار عشق ایسا اٹھانے میں دلاور ہے
جو اس کے کوہ دوں سر پر تو اس کو کاہ جانے ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
میری فریاد کوئی نئیں سنتا
کوئی اس شہر میں بھی بستا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
میرے حواس خمسہ اسے دیکھ اڑ گئے
کیوں کر ٹھہر سکیں یہ کبوتر تھے پر گرے
شیخ ظہور الدین حاتم
میرے آنسو کے پوچھنے کو میاں
تیری ہو آستیں خدا نہ کرے
شیخ ظہور الدین حاتم
میرا معشوق ہے مزوں میں بھرا
کبھو میٹھا کبھو سلونا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
مزرع دنیا میں دانا ہے تو ڈر کر ہاتھ ڈال
ایک دن دینا ہے تجھ کو دانے دانے کا حساب
شیخ ظہور الدین حاتم

