تری نگہ سے گئے کھل کواڑ چھاتی کے
حصار قلب کی گویا تھی فتح تیرے نام
شیخ ظہور الدین حاتم
تری محراب میں ابرو کی یہ خال
کدھر سے آ گیا مسجد میں ہندو
شیخ ظہور الدین حاتم
تری جو زلف کا آیا خیال آنکھوں میں
وہیں کھٹکنے لگا بال بال آنکھوں میں
شیخ ظہور الدین حاتم
ترے رخسار سے بے طرح لپٹی جائے ہے ظالم
جو کچھ کہیے تو بل کھا الجھتی ہے زلف بے ڈھنگی
شیخ ظہور الدین حاتم
تیر نگہ لگا کے تم کہتے ہو پھر لگا نہ خوب
میرا تو کام ہو گیا سینہ کے پار ہو نہ ہو
شیخ ظہور الدین حاتم
مظہر حق کب نظر آتا ہے ان شیخوں کے تئیں
بسکہ آئینے پر ان آہن دلوں کے زنگ ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
مہیا سب ہے اب اسباب ہولی
اٹھو یارو بھرو رنگوں سے جھولی
شیخ ظہور الدین حاتم
مدت سے خواب میں بھی نہیں نیند کا خیال
حیرت میں ہوں یہ کس کا مجھے انتظار ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
مدت سے آرزو ہے خدا وہ گھڑی کرے
ہم تم پئیں جو مل کے کہیں ایک جا شراب
شیخ ظہور الدین حاتم

