EN हिंदी
شیخ ظہور الدین حاتم شیاری | شیح شیری

شیخ ظہور الدین حاتم شیر

235 شیر

پھڑکوں تو سر پھٹے ہے نہ پھڑکوں تو جی گھٹے
تنگ اس قدر دیا مجھے صیاد نے قفس

شیخ ظہور الدین حاتم




پہن کر جامہ بسنتی جو وہ نکلا گھر سوں
دیکھ آنکھوں میں مری پھول گئی ہے سرسوں

شیخ ظہور الدین حاتم




پگڑی اپنی یہاں سنبھال چلو
اور بستی نہ ہو یہ دلی ہے

شیخ ظہور الدین حاتم




پڑی پھرتی ہیں کئی لیلیٰ و شیریں ہر جا
پر کوئی ہائے یہاں مجنوں و فرہاد نہیں

شیخ ظہور الدین حاتم




نگاہیں جوڑ اور آنکھیں چرا ٹک چل کے پھر دیکھا
مرے چہرے اوپر کی شاہ خوباں نے نظر ثانی

شیخ ظہور الدین حاتم




نے کعبہ کی ہوس نہ ہوائے کنشت ہے
دیکھا تو دونوں جائے وہی سنگ و خشت ہے

شیخ ظہور الدین حاتم




کیوں کر ان کالی بلاؤں سے بچے گا عاشق
خط سیہ خال سیہ زلف سیہ چشم سیاہ

شیخ ظہور الدین حاتم




نظر میں بند کرے ہے تو ایک عالم کو
فسوں ہے سحر ہے جادو ہے کیا ہے آنکھوں میں

شیخ ظہور الدین حاتم




نوجوانوں کو دیکھ کر حاتمؔ
یاد عہد شباب آوے ہے

شیخ ظہور الدین حاتم