میں جتنا ڈھونڈھتا ہوں اس کو اتنا ہی نہیں پاتا
کدھر ہے کس طرف ہے اور کہاں ہے دل خدا جانے
شیخ ظہور الدین حاتم
میں جاں بلب ہوں اے تقدیر تیرے ہاتھوں سے
کہ تیرے آگے مری کچھ نہ چل سکی تدبیر
شیخ ظہور الدین حاتم
معلوم ہے کسو کو کہ وہ آج شعلہ خو
ہم کو جلا کے آگ لگانے کدھر گئے
شیخ ظہور الدین حاتم
نظر میں اس کی جو چڑھتا ہے سو جیتا نہیں بچتا
ہمارا سانولا اس شہر کے گوروں میں کالا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
رات دن جاری ہیں کچھ پیدا نہیں ان کا کنار
میرے چشموں کا دو آبا مجمع البحرین ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
راہ میں غمزدۂ عشق کو کیا ٹوکو ہو
اپنی حالت میں گرفتار چلا جاتا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
قربان سو طرح سے کیا تجھ پر آپ کو
تو بھی کبھو تو جان نہ آیا بجائے عید
شیخ ظہور الدین حاتم
قصۂ مجنوں و فرہاد بھی اک پردا ہے
جو فسانہ ہے یہاں شرح و بیاں ہے اپنا
شیخ ظہور الدین حاتم
قیامت تک جدا ہووے نہ یارب
جنوں کے دست سے میرا گریباں
شیخ ظہور الدین حاتم

