تیرے آنے سے یو خوشی ہے دل
جوں کہ بلبل بہار کی خاطر
شیخ ظہور الدین حاتم
صاحبان قصر کو ملتی نہیں ہے بعد مرگ
گور میں سر کے تلے تکیہ کی جاگا ایک خشت
شیخ ظہور الدین حاتم
ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شراب
مرتا ہوں تشنگی سے اے ظالم پلا شراب
شیخ ظہور الدین حاتم
صبر بن اور کچھ نہ لو ہم راہ
کوچۂ عشق تنگ ہے یارو
شیخ ظہور الدین حاتم
سمجھتے ہم نہیں جو تم اشاروں بیچ کہتے ہو
مفصل کو تو ہم جانے ہیں یہ مجمل خدا جانے
شیخ ظہور الدین حاتم
سو بار تار تار کیا تو بھی اب تلک
ثابت وہی ہے دست و گریباں کی دوستی
شیخ ظہور الدین حاتم
شہر میں چرچا ہے اب تیری نگاہ تیز کا
دو کرے دل کے تئیں یہ نیمچہ انگریز کا
شیخ ظہور الدین حاتم
شیخ اس کی چشم کے گوشے سے گوشے ہو کہیں
اس طرف مت جاؤ ناداں راہ مے خانے کی ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
شمع ہر شام تیرے رونے پر
صبح دم تک چراغ ہنستا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم

