میرے سینہ میں نہیں ہے تو یہ سمجھو کہ نہ تھا
پوچھتے کیا ہو جو ہوتا تو یہیں دل ہوتا
ناطق گلاوٹھی
مجنوں سے جو نفرت ہے دیوانی ہے تو لیلیٰ
وہ خاک اڑاتا ہے لیکن نہیں دل میلا
ناطق گلاوٹھی
مے کو مرے سرور سے حاصل سرور تھا
میں تھا نشہ میں چور نشہ مجھ میں چور تھا
ناطق گلاوٹھی
لو جنوں کی سواری آ پہنچی
میرے دامن پہ چل رہا ہے چاک
ناطق گلاوٹھی
کیا کروں اے دل مایوس ذرا یہ تو بتا
کیا کیا کرتے ہیں صدموں سے ہراساں ہو کر
ناطق گلاوٹھی
کشتی ہے گھاٹ پر تو چلے کیوں نہ دور آج
کل بس چلے چلے نہ چلے چل اٹھا تو لا
ناطق گلاوٹھی
کر مرتب کچھ نئے انداز سے اپنا بیاں
مرنے والے زندگی چاہے تو افسانے میں آ
ناطق گلاوٹھی
کیفیت تضاد اگر ہو نہ بیان شعر میں
ناطقؔ اسی پہ روئے کیوں چنگ نواز گائے کیوں
ناطق گلاوٹھی
کون اس رنگ سے جامہ سے ہوا تھا باہر
کس سے سیکھا تری تلوار نے عریاں ہونا
ناطق گلاوٹھی

