منڈیروں پر چھڑک دے اپنے کشتوں کا لہو اے گل
اگے گا سبزۂ شمسیر دیوار گلستاں پر
منیرؔ شکوہ آبادی
لیٹے جو ساتھ ہاتھ لگا بوسۂ دہن
آیا عمل میں علم نہانی پلنگ پر
منیرؔ شکوہ آبادی
میں جستجو سے کفر میں پہنچا خدا کے پاس
کعبہ تک ان بتوں کا مجھے نام لے گیا
منیرؔ شکوہ آبادی
میں کیا دکھائی دیتی نہیں بلبلوں کو بھی
پہنے تو ایسے مل گئے تیرے بدن میں پھول
منیرؔ شکوہ آبادی
ملتے ہیں خوبرو ترے خیمہ سے چھاتیاں
انگیا کی ڈوریاں ہیں مقرر قنات میں
منیرؔ شکوہ آبادی
مستوں میں پھوٹ پڑ گئی آتے ہی یار کے
لڑتا ہے آج شیشہ سے شیشہ شراب کا
منیرؔ شکوہ آبادی
مل مل گئے ہیں خاک میں لاکھوں دل روشن
ہر ذرہ مجھے عرش کا تارا نظر آیا
منیرؔ شکوہ آبادی
پایا طبیب نے جو تری زلف کا مریض
شامل دوا میں مشک شب تار کر دیا
منیرؔ شکوہ آبادی
پڑ گئی جان جو اس طفل نے پتھر مارے
آج جگنو کی طرح ہر شرر سنگ اڑا
منیرؔ شکوہ آبادی

