پھول کر لے نباہ کانٹوں سے
آدمی ہی نہ آدمی سے ملے
خمارؔ بارہ بنکوی
نہ تو ہوش سے تعارف نہ جنوں سے آشنائی
یہ کہاں پہنچ گئے ہیں تری بزم سے نکل کے
what is this place that I have reached, having left your company
خمارؔ بارہ بنکوی
مجھے تو ان کی عبادت پہ رحم آتا ہے
جبیں کے ساتھ جو سجدے میں دل جھکا نہ سکے
خمارؔ بارہ بنکوی
مجھے کو محرومئ نظارہ قبول
آپ جلوے نہ اپنے عام کریں
خمارؔ بارہ بنکوی
محبت کو سمجھنا ہے تو ناصح خود محبت کر
کنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتا
if love you need to fathom, friend, in love you need to be
the storm cannot be felt by merely sitting by the sea
خمارؔ بارہ بنکوی
مرے راہ بر مجھ کو گمراہ کر دے
سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے
خمارؔ بارہ بنکوی
خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے
فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے
خمارؔ بارہ بنکوی
کہیں شعر و نغمہ بن کے کہیں آنسوؤں میں ڈھل کے
وہ مجھے ملے تو لیکن کئی صورتیں بدل کے
خمارؔ بارہ بنکوی
جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں
کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں
خمارؔ بارہ بنکوی

