سنا ہے ہمیں بے وفا تم کہو ہو
ذرا ہم سے آنکھیں ملا لو تو جانیں
کلیم عاجز
شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
مگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے
کلیم عاجز
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
کلیم عاجز
نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں
ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے
کلیم عاجز
مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں
کلیم عاجز
مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دے
بس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دے
کلیم عاجز
میری غزل کو میری جاں فقط غزل نہ سمجھ
اک آئنہ ہے جو ہر دم ترے مقابل ہے
کلیم عاجز
موسم گل ہمیں جب یاد آیا
جتنا غم بھولے تھے سب یاد آیا
کلیم عاجز
مرنا تو بہت سہل سی اک بات لگے ہے
جینا ہی محبت میں کرامات لگے ہے
کلیم عاجز