ریل کی پٹری نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے
آپ اپنی ذات سے اس کو بہت انکار تھا
عتیق اللہ
پانی تھا مگر اپنے ہی دریا سے جدا تھا
چڑھتے ہوئے دیکھا نہ اترتے ہوئے دیکھا
عتیق اللہ
مجھ میں خود میری عدم موجودگی شامل رہی
ورنہ اس ماحول میں جینا بڑا دشوار تھا
عتیق اللہ
لمس کی شدتیں محفوظ کہاں رہتی ہیں
جب وہ آتا ہے کئی فاصلے کر جاتا ہے
عتیق اللہ
کچھ بدن کی زبان کہتی تھی
آنسوؤں کی زبان میں تھا کچھ
عتیق اللہ
آئینہ آئینہ تیرتا کوئی عکس
اور ہر خواب میں دوسرا خواب ہے
عتیق اللہ
کسی اک زخم کے لب کھل گئے تھے
میں اتنی زور سے چیخا نہیں تھا
عتیق اللہ
کس کے پیروں کے نقش ہیں مجھ میں
میرے اندر یہ کون چلتا ہے
عتیق اللہ
خوابوں کی کرچیاں مری مٹھی میں بھر نہ جائے
آئندہ لمحہ اب کے بھی یوں ہی گزر نہ جائے
عتیق اللہ

